Sunday, 2 February 2014

اگر اب بھی نہ جاگے تو

کافی دنوں سے ذہن میں ہلچل سی تھی ۔۔ بہت سی باتیں جمع ہوکر کھچڑی پک رہی تھی، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے ؟؟؟؟ ۔۔۔ پھر آج ایک فلم دیکھی جو کہ ہندوستانی فلم تھی لیکن اس فلم نے ایک ایسا پیغام دیا جس کا اثر واقعی بہت شدید ہوا ۔۔۔ انتہائی مثبت پیغام کے اگر کوئی آپ کی مدد کرتا ہے تو شکریہ نہ کہیں بلکہ آپ لوگوں کی مدد کریں اور دوسروں کو بھی مدد کرنے کا کہیں ۔۔۔۔ کیا یہ ناممکن ہے ؟؟؟؟ بالکل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن پھر میں نے اپنے ملکی عوامی حالات کے بارے سوچا ، خود اپنے بارے سوچا تو دہل گیا کہ یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔ ہم لوگ جو دنیا کے سب سے مہذب اور انسانیت سے قریب مذہب کے نام لیوا ہیں کس قدر ذلت و رسوائی کی پستیوں کی جانب جا رہے ہیں ۔۔ اور اتنے پتھر دل ہوگئے ہیں کہ پتھر بھی رو پڑے ہماری حالت دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی پنچایت کے حکم پر وہ بھی ایک بیوہ کے ساتھ ۔۔ اللہ اللہ اللہ نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا نہ ہی ہمارے پتھر دلوں پر اثر ہوا ۔۔۔ کچھ دن پہلے کسی غریب کی چھوٹی سی بچی کے ساتھ کچھ درندوں نے زیادتی کی وہ قریب المرگ ہے ، پھر بھی کچھ نہ ہوا ۔۔۔۔۔ کئی لوگ روزانہ قتل ہوتے ہیں کسی کی مانگ اجڑتی ہے کسی کا جگر چھلنی ہوا جاتا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو سرعام پیٹتا ہے بری ظرح کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا بلکہ موبائل سے وڈیو بناتے ہیں اور نیوز چینلز والے یہ خبر بڑے فخر سے نشر کرتے ہیں ۔۔ پولیس کا کوئی اعلیٰ عہدیدار اس کا نوٹس لیتا ہے پھر کوئی وزیر نوٹس لیتا ہے ۔۔ قانونی کاروائی کی ہدایت کرتا ہے اور یوں معاملہ قانون کے پاس جا کر ہمیشہ کے لیئے فائلوں کے نیچے دب جاتا ہے ۔۔ عوام کو انٹر ٹینمنٹ مل جاتی ہے کچھ دیر کی اور بس ۔۔۔۔ پھر دھماکہ کی خبر آتی ہے بندے مرجاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں "ہائے کتنا ظلم ہوا ہے" اور بس ۔۔۔۔۔۔ سیاسی جماعت کی ریلی میں ہزاروں لاکھوں کا مجمع ہوتا ہے ۔۔۔ اور کسی غریب مظلوم خاندان کے لوگ میت سڑک پر رکھ کر بیٹھے ہوتے ہیں لیکن وہاں چند لوگ ہوتے ہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔
پولیس آج بھی رشوت لیتی ہے ، سرکاری اداروں میں لوگ صرف رشوت کی کمائی کے لیئے بھرتی ہوتے ہیں ۔۔۔ عدلیہ آج بھی جانبدار ہے اور سیاستدان آج بھی عوام کے خادم ہیں ۔۔۔۔ 
جمہوریت کا نعرہ لگا کر عوام کو برسوں سے بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور عوام کو بھی پتا ہے کہ سیاستدان بیوقوف بنا رہا ہے لیکن عوام پھر بھی بیوقوف بن رہی ہے ۔۔۔ 
عوام کو شدید نقصان پہنچاکر پھر عوام سے ووٹ مانگے جاتے ہیں اور بیوقوف عوام پھر ووٹ دیدیتی ہے ۔۔۔۔ 
پٹرول مہنگا ہوجائے تو احتجاج نہیں ہوتا بلکہ لوگ پٹرول بھروانے پہنچ جاتے ہیں کہ کل پٹرول مہنگا ہوجائے گا ۔۔
اٹھارہ کروڑ عوام چند سو لوگوں کے ہاتھوں سدھائے ہوئے کتے کی طرح عمل کرتی ہے ۔۔۔۔ 
اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتی 
نہ ہو جسے خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا 

یہی حال رہے گا 
اگر اب بھی نہ جاگے تو !!!!!

1 comments:

Asad Habeeb said...

جی بالکل ! اگر اب بھی نہ جاگے تو یہی حال ہو گا۔ بلکہ اس سے بھی بُرا ہو جائے گا۔
جاگنے کی سب سے پہلی نشانی ہے کہ انسان کڑھتا ہے، اپنے ارد گرد کی حالت پر۔
اور اس سے اگلی یہ کہ انسان ان حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غصے اور ٹینشن کو ایک جذبے میں ڈھال کر اپنے چھوٹے چھوٹے عمل کے ذریعے معاشرے میں موجود برائیوں کے خلاف ایک مستقل رد عمل بناتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ آپ جا گتے رہیں۔ اور جاگتے ہوئے اگلی منزل کا مشاہدہ بھی کرکیں۔

Post a Comment

Powered by Blogger.

میرے بارے میں