Thursday, 18 July 2013

ماہ رمضان اور پاکستانیوں کی قوت برداشت

ماہ رمضان افضل ترین مہینہ کہ جس میں اللہ کی بے پایاں رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ وہیں اس مہینہ کےلیئے اللہ تعالٰی نے بہت سے احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں ایک حکم ہے برداشت کا ظاہر ہے روزہ رکھنے کا مطلب صرف بھوکا رہنا نہیں ہے 
لیکن میرا ذاتی مشاہدہ و تجربہ یہی ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں صرف بھوکا رہنے کا نام روزہ ہے باقی احکامات پر عمل کم تعداد میں لوگ کرتے ہیں۔ میں شروع کروں گا اپنی طرف سے کہ میں روزہ نہیں رکھتا کیونکہ میرے پاس اپنے حق میں دینے کے لیئے بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ آفس میں سارا دن جھوٹ بولنا پڑتا ہے، قیلڈ ورک کے لیئے اکثر و بیشتر باہر رہنا پڑتا، نگاہوں کا سنبھلنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ ( چاہوں تو کوشش کرکے ان سے دور ہو سکتا ہوں لیکن بات قوت برداشت کی ہورہی ہے جو ماہ رمضان میں کمزور پڑ جاتی ہے) ۔ میرا چھوٹا بھائی سحری کرکے سوتا ہے اور عصر کے بعد اٹھتا ہے پوچھو تو کہتا ہے کہ روزہ دار کا سونا بھی عبادت ہے۔ سب سے چھوٹا روزہ رکھ کے ایسا منہ بنائے بیٹھا ہوتا ہے کہ لگتا ہے کہ اگر بات کی تو گولی مار دے گا کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی بات کرنے کی پتا نہیں میرا روزہ ہے۔
اب ذرا بات کرتے ہیں باہر کی میرے آفس میں آدھوں کا روزہ ہوتا ہے آدھوں کا نہیں تو جن کا روزہ ہوتا ہے وہ ایسے اکڑے بیٹھے ہوتے ہیں کہ جیسے روزہ رکھ کر ہم پر یا اللہ پر احسان کر رہے ہیں جب کوئی بات کرو یا پوچھو تو اکثر جواب آتا ہے یار روزہ رکھا ہوا ہے طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی بات نہ کر، میرا باس پورا سال پوچھتا تک نہیں لیکن رمضان میں روزانہ پوچھے گا کہ ہاں بھئی روزہ رکھیا جے ، نہ میں جواب دو تو ایسے دیکھتا ہے جیسے اچھوت ہوں، گھر واپس جاتے ہوئے قوت برداشت کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے گاڑی پر گاڑی چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور مزیدار بات یہ ہے کہ لوگ گاڑیوں سے باہر آکر اس وقت بات کرنا شروع کردیتے ہیں (تلخ الفاظ میں ) اگلے بندے کو غصہ میں کہتے ہیں روزہ زیادہ لگ گیا کیا خود اپنی قوت برداشت پر نظر نہیں ہوتی کہ ظاہر ہے بھئی روزہ رکھاہوا ہے بھوک برداشت کی ہوئی ہے کوئی مزاق نہیں ہے افطار سے کچھ دیر پہلے ٹریفک اتنی تیز ہوتی ہے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا اور جا بھڑتے ہیں کسی سے اور پھر شروع ہوتا ہے روزہ پر سیر حاصل لیکچر جس کا اختتام اکثر روڈ پر افطاری کرنے کی صورت میں پوتا ہے۔ بیوپاری حضرات کی برداشت تو غضب کی ہے پورا سال صبر و سکون سے رمضان کا انتظار کرتے ہیں ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں کہ رمضان میں صبر کا پھل کھائیں گے اور کھاتے بھی ہیں۔ باہر کے ممالک میں ماہ رمضان کے لیئے رعایتی بیکج دیئے جاتے ہیں پروموشنز ہوتی ہیں اور یہاں ملک خداداد میں فرعونیت کا راج ہوتا ہے (اوپر کہی گئی باتوں سے کسی کا متفق یا غیر متفق ہونا ضروری نہیں ہے یہ ذاتی مشاہدہ کی بنا پر کی گئی ہیں)

4 comments:

ساجد said...

بابا جی ، بہت درست تجزیہ کیا آپ نے۔

عاطف بٹ said...

شاہ جی، بالکل ٹھیک کہا ہے آپ نے۔ ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم پاکستانیوں نے ماہِ صیام کو رحمت کی بجائے زحمت کا مہینہ سمجھ لیا ہے۔

Editor said...

بہت خوب لکھا ہے بابا جی

Darvesh Khurasani said...

بات تو سچ ہے مگر ۔ ۔ ۔

باباجی تبصے کے حواکے سے معمولی دقت ہوئی۔
تبصرہ نگار کیلئے اسی دقت کا سامنا کرنے پر ایک تحریر لکھی تھی،آپکے پیش خدمت ہے
http://darveshkhurasani.wordpress.com/2013/02/21/comments-related-problems/

Post a Comment

Powered by Blogger.

میرے بارے میں